ہسپتال فارمیسی کا دباؤ اور باکترم دوا کا سنسنی خیز ردعمل: دو سچی کہانیاں

ٹوسان میں ملازمت کی تلاش میں سرگرداں فارماسسٹ اور باکترم اینٹی بائیوٹک کے بعد خوفناک جلدی علامات کا شکار ہونے والی نئی ماں کے احوال۔
Urdu

ہسپتال فارمیسی کا دباؤ اور باکترم دوا کا سنسنی خیز ردعمل: دو سچی کہانیاں · Avonetics

🎧 Listen to this episode
Closes with the original song “دل کا حساب برابر”.
Sponsored
Volicci custom graphic tees, hoodies & die-cut stickers, a fresh original design every day. Learn more →

طبی دنیا بظاہر شفا اور امید کا مرکز نظر آتی ہے، لیکن اس کے پیچھے کام کرنے والے پیشہ ور افراد اور ادویات کا استعمال کرنے والے مریض اکثر ایسی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں جن کا تصور عام انسان نہیں کر سکتا۔ ٹوسان کے ہسپتالوں میں کام کرنے کی خواہش رکھنے والے ایک فارماسسٹ کی کہانی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس فارماسسٹ کے مطابق، ٹوسان شہر میں ہسپتال فارمیسی کی نوکری حاصل کرنا ایک ناممکن مشن بن چکا ہے۔ دن اور شام کی تمام تر اسامیاں مقامی یونیورسٹی آف ایریزونا کے گریجویٹس کے حصے میں چلی جاتی ہیں، اور باہر سے آنے والوں کے لیے صرف اور صرف رات کی کٹھن ڈیوٹی ہی بچتی ہے۔ یہ سوال طبی حلقوں میں گردش کر رہا ہے کہ کیا کیریئر میں آگے بڑھنے کے لیے نائٹ شفٹ کا عذاب جھیلنا ایک عقلمندانہ فیصلہ ہے؟

Read next۵,۳۳۷ درخواستیں اور ۶ انٹرویوز: کیا کارپوریٹ جاب مارکیٹ کا نظام تباہ ہو چکا ہے؟

ایک تجربہ کار فارماسسٹ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کسی بڑے ہسپتال کے نظام میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو شروعات میں نائٹ شفٹ قبول کرنی ہی پڑے گی۔ ایک بار جب آپ سسٹم کا حصہ بن جاتے ہیں تو اندرونی طور پر دن کی شفٹ میں منتقل ہونا آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم، ایک اور ماہر نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ رات کی ڈیوٹی فارماسسٹ کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو نچوڑ لیتی ہے اور اکثر ہسپتال انتظامیہ نائٹ شفٹ کے عملے کو وہیں قید رکھتی ہے۔

اس کیریئر کے بحران کے ساتھ ہی ایک اور دل دہلا دینے والا طبی واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک ۲۰ سالہ خاتون، جس نے حال ہی میں بچے کو جنم دیا تھا، شدید پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں مبتلا ہوئی۔ ڈاکٹر نے اسے باکترم (Bactrim) نامی اینٹی بائیوٹک تجویز کی۔ لیکن دوا کا کورس ختم کرتے ہی اس کے جسم پر خوفناک سرخ دھبے نمودار ہو گئے۔

Sponsored
govfab.com Turn ideas into reality with AI-powered manufacturing. Describe what you need, and GovFab transforms your idea into a custom-designed product ready to manufacture. Learn more →

یہ دھبے عام خارش سے بالکل مختلف تھے۔ جب انہیں دبایا جاتا تو ان کی سرخی غائب نہیں ہوتی تھی، جسے طبی زبان میں نان بلانچنگ کہا جاتا ہے۔ یہ ریش تیزی سے اس کے چہرے، ہاتھوں اور پیروں پر پھیلنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی اسے گردن میں سختی اور شدید نقاہت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بیناڈریل جیسی الرجی کی ادویات بھی اس پر بے اثر ثابت ہوئیں۔

طبی ماہرین کے مطابق، اینٹی بائیوٹک ادویات بالخصوص باکترم کے بعد ایسے دھبوں کا ظاہر ہونا اسٹیونز جانسن سنڈروم (SJS) یا واسکولائٹس جیسی مہلک بیماریوں کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔ ایسے مواقع پر فوری طور پر ایمرجنسی روم سے رجوع کرنا زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے۔

ہمارے پوڈکاسٹ کے میزبان اس قسط میں ان دونوں واقعات کی اندرونی سچائی اور اخلاقی پہلوؤں پر تفصیلی بحث کر رہے ہیں۔

0:00
0:00
Link copied ✓