بزرگسالی کی تنہائی اور خود نگری: کیا ہم دوست بنانا اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا بھول چکے ہیں؟

بزرگسالی کی تنہائی اور خود نگری: کیا ہم دوست بنانا اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا بھول چکے ہیں؟ · Avonetics
ایک وقت تھا جب دوستی کا قائم ہونا ہوا کی سانس کی طرح آسان تھا۔ اسکول کے بینچ پر کسی کے ساتھ بیٹھ جانا یا کھیل کے میدان میں ایک ساتھ مسکرا دینا ہی دوستی کے معاہدے کے لیے کافی ہوتا تھا۔ لیکن جیسے ہی انسان عملی زندگی اور اپنے بیسویں سالوں میں قدم رکھتا ہے، تعلقات کا یہ خودکار نظام اچانک رک جاتا ہے۔
آج کا بالغ انسان ہر روز ن نئے لوگوں سے ملتا ہے۔ دفاتر میں، ورزش گاہوں میں، اور آن لائن دنیا میں۔ باتیں ہوتی ہیں، مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا ہے، لیکن اس کے بعد ایک گہرا سناٹا چھا جاتا ہے۔ کوئی بھی پہلا قدم اٹھانے یا آگے بڑھ کر رابطہ کرنے کا خطرہ نہیں مول لیتا۔ ہم سب اس انتظار میں رہتے ہیں کہ سامنے والا شخص پہل کرے گا۔
Read nextباورچی خانے کے راز سے سفر کی بچت تک: دو ذہین ٹوٹکے جو آپ کے ہزاروں روپے بچا سکتے ہیں
اس مسئلے کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید زندگی کی تھکن اور 9 سے 5 کی مسلسل مصروفیت نے انسان کی جذباتی توانائی کو نچوڑ لیا ہے۔ ایک مبصر کا کہنا تھا کہ اسکول کی عمر میں ہمارے پاس بے فکری کا وقت ہوتا تھا، لیکن اب کام کی تھکن اور مالی دباؤ کے بعد انسان کے پاس اتنی ہمت ہی نہیں بچتی کہ وہ نئے تعلقات کی آبیاری کر سکے۔
تاہم، ایک دوسرا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ ہم اپنی کاہلی اور سستی کا ملبہ حالات پر ڈال رہے ہیں۔ ایک تجزیہ نگار کے مطابق، اگر آپ واقعی تنہائی ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو خود وہ شخص بننا پڑے گا جو پہلا پیغام بھیجے گا۔ دوستی اب خود بخود نہیں بنے گی، بلکہ اس کے لیے عزم اور ڈسپلن کی ضرورت ہے۔
تعلقات کی اس سستی کا عکس ہماری عملی اور انتظامی زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔ ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ پیشہ ور افراد اور ادارے اپنا کام درست کر رہے ہوں گے۔ مثال کے طور پر، جب لوگ اپنے قانونی یا مالیاتی کاغذات کو نظر انداز کرتے ہیں تو سنگین غلطیاں جنم لیتی ہیں۔ وکلا اکثر ایک ہی فارمیٹ کا استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک شخص کی حساس معلومات اور بینک اکاؤنٹ نمبرز دوسرے شخص کی عام فائلوں میں شائع ہو جاتے ہیں۔
اگر انسان خود بیدار نہ رہے اور چند منٹ نکال کر اپنی فائلوں اور زندگی کے معمالات کا جائزہ نہ لے، تو وہ ہمیشہ دوسروں کی نااہلی کا شکار ہوتا رہے گا۔ چاہے دوستی کی پہل ہو یا اپنے حقوق کا تحفظ، اپنی زندگی کی باگ ڈور سنبھالنا انسان کی اپنی ذمہ داری ہے۔
اس حوالے سے مزید گہرے تجزیے اور گرم جوش بحث کو سننے کے لیے، ہمارے پوڈکاسٹ کی تازہ قسط کا حصہ بنیں۔